اردو جواب پر خوش آمدید

+1 ووٹ
81 مناظر
نے اسلام میں
السلام علیکم
میری شادی کے بعد میری بیوی اپنے جہیز میں آٹھ تولہ
سونا لے کر آئی اور دو تولہ پہلی ہمارے گھر موجود تھا کل ملا کر دس تولہ ہو گیا ایک لاکھ پچاس ہزار قرض دینا ہے۔ میری ماہانا تنخواہ اکتیس ہزار ہے۔ اس صورتحال میں زکوات مجھ پر فرض ہے یا نہیں اگر ہے تو کتنی نکلے گی۔۔
رہنمائی فرما دیں
جزاک اللہ

1 جوابات

0 ووٹس
(6.0ہزار پوائنٹس) نے
وعلیکم السلام۔
بیوی جو سونا جہیز میں لے کر آئی ہے وہ بیوی کی ملکیت ہے۔ جبکہ جو آپ کے گھر میں پہلے سے موجود تھا اگر وہ آپ نے بیوی کو دے دیا ہے تو اب اس کی ملکیت ہے ورنہ آپ کی ملکیت ہی رہے گا۔ سونا اگر ساڑے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر زکوۃ لاگو ہوتی ہے۔ تاہم اگر بیوی کے زیر استعمال ہے تو پھر اس پر زکوۃ نہیں ہوگی جبکہ جو استعمال میں نہیں ہے وہ اگر ساڑھے سات تولے یا اس سے زیادہ ہے تو اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔ زکوٰۃ کل مال سے اڑھائی فیصد (2.5 فیصد) ہوتی ہے۔ یعنی سو روپے میں سے اڑھائی روپے۔

باقی رہی قرض کی بات تو وہ آپ پر ہے آپ کی بیوی پر نہیں۔ تاہم دوسری صورت میں بھی سونا بیچ کر قرض ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور باقی بچ جانے والا سونا اگر نصاب کو پہنچ جائے  تو زکوۃ لازم ہوگی ورنہ نہیں۔

متعلقہ سوالات

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

621 سوالات

758 جوابات

408 تبصرے

311 صارفین

...