اردو جواب پر خوش آمدید

+1 ووٹ
1.9ہزار مناظر
نے اسلام میں

2 جوابات

+1 ووٹ
(1.4ہزار پوائنٹس) نے
ضرور شرعی حقدار ہیں جو وراثت باپ کوملنی تھی وہ ہوتوں کو منتقل ہوگی اد میں کوئی ابہام نہیں ہے
(7.9ہزار پوائنٹس) نے
شاہنواز صاحب! دوبارہ خوش آمدید۔ امید ہے اب حاضری لگاتے رہیں گے۔
+1 ووٹ
(7.9ہزار پوائنٹس) نے
شریعت میں وراثت "ترکہ" کو کہتے ہیں جو کہ لفظ "ترک" سے نکلنا ہے جس کے معنی رک جانا یا متروک کردینا کے ہیں۔

تو گویا وراثت ایسا مال ہوتا ہے جو انسان استعمال کرنے سے رک جاتا ہے یا استعمال نہیں کرسکتا۔ اور ایسا صرف موت کی صورت میں ہوتا ہے اس لیے میت کے چھوڑے گئے مال کو وراثت  یا ترکہ کہتے ہیں۔
اسلام میں صرف زندہ لوگ ہی میت کے وارث ہوتے ہیں کیونکہ وارث صرف ترکہ یا مال و دولت کا وارث نہیں ہوتا بلکہ مرنے کے والے ذمہ اگر کچھ فرائض یا قرض وغیرہ ہو تو اس کا بھی وارث ہوتا ہے۔ جو کہ اس کے لیے ادا کرنا لازم ہے۔ اس لیے میت سے پہلے ہی فوت شدہ شخص میت کا قرض کیسے ادا کرسکتا ہے جبکہ وہ خود پہلے ہی فوت ہوچکا ہے ۔ اس لیے صرف زندہ لوگ ہی میت کی وراثت کے حقدار ہوتے ہیں۔

دوسرے لحاظ سے دیکھا جائے تو بیٹا پہلے فوت ہوچکا ہے اور اس کی وراثت تقسیم ہو کر اس کے والدین اور بیوی بچوں کو جاچکی ہے اب جبکہ اس کا والد خود بعد فوت ہوا تو اس کی وراثت پہلے سے فوت شدہ شخص کو کیسے جاسکتی ہے؟
اگر اسے جائز سمجھا جائے تو پھر والد کے بعد بیٹا فوت ہونے کی صورت میں بیٹے کی وراثت سے فوت شدہ والدین کو حصہ ملنا چاہیے جو کہ پھر ان والدین کے دیگر ورثا کو منتقل ہو جیسے ان کے بیٹے یا بیٹیاں اور موجودہ میت کے بھائی بہن وغیرہ۔ اس طرح سے پھر ایک لا متناہی سلسلہ چل پڑے گا جو کہ کبھی ختم نہ ہوگا کیونکہ ہر فوت شدہ کا کوئی نہ کوئی فوت شدہ وارث ہو گا جس کے آگے مزید ورثا ہوں گے۔
اس لیے اسلام نے صرف زندہ لوگوں کو ہی وارث مقرر کیا ہے تاکہ وہ  صرف میت کے مال کے ہی وارث نہ ہوں بلکہ اس کے ذمہ اگر قرض یا اسلام کے کوئی فرائض مثلاً حج وغیرہ ہوں تو انہیں ادا کرسکے۔

واللہ اعلم بالصواب

متعلقہ سوالات

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

697 سوالات

812 جوابات

422 تبصرے

351 صارفین

...