اردو جواب پر خوش آمدید

اردو جواب کی طرف سے تمام اہلِ اسلام کو رمضان کی بابرکت گھڑیاں مبارک ہوں!

+1 ووٹ
175 مناظر
نے اسلام میں
السلام علیکم  ،محترم میرے دل میں یہ سوال پیدا ہواکہ پب جی کھیلنے میں شرک کیوں ہے، اس کے جواب میں میں نے اپنے آپ سے کہا کیوںکہ اس گیم میں پاور حاصل کرنے کیلئے بتوں کے سامنے جکھنا پڑتا ہے جوکہ شرک ہے اسی طرح عبادت اور تعظیم کیلئے بتوں کے سامنے جکھنا یہ بھی شرک ہے،
لیکن پھر سوال ہوا کہ"  اگر کوئی بغیر مقصد کے جھکے تو کیا یہ بھی شرک ہے " ، میں اسے بھی شرک کہنے جارہا تھا لیکن پھر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر کوئی چور مورتی چرانے کیلئے جھکے تو کیا اسے بھی شرک کہا جائیگا اس طرح کی اور بھی میں باتیں میرے دل میں آئیں اسلئے میں نے کنفیوز ہوکر یہ کہ دیا کہ"  بغیر مقصد کے جکھنا یہ گناہ عظیم ہے"  نہ میں نے شرک کہا اور نہ ہی نفی کی، اب سوال یہ ہیکہ کیا اس سے میرے عقیدہ اور نکاح میں کچھ فرق آئیگا جبکہ میں بت کے سامنے جھکنے کو شرک سمجھتا ہوں ،،،

1 جوابات

0 ووٹس
(11.8ہزار پوائنٹس) نے
السلام علیکم
عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ﷜ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: "إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إلَى مَا هَاجَرَ إلَيْهِ".
امیر المومنین ابو حفص عمر بن الخطاب ﷜ سے روایت ہے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہےجس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی جانب ہے تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ ہی کی جانب ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کےلیے ہے کہ اسےکمائے یا عورت کے لیے ہے کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت انہی کی جانب ہے
(اسے محدثین کے امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن بردزبہ البخاری الجعفی رح اور ابو الحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری النیشاپوری رح نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، اور یہ دونوں کتب تمام تصنیف کردہ کتب میں سے صحیح ترین کتب ہیں)

اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ اگر غیراللہ کے آگے اس وجہ سے جھکا کہ اس کی تعظیم کرے یا اس سے مدد حاصل کرے تو یہ شرک ہوگا۔ اگر غیرارادی طور پر یا کسی اور وجہ سے جھکا مثلاً اس کی اپنی کوئی چیز گر گئی ہے تو پھر یہ شرک کے زمرے میں نہیں آئے گا۔
البتہ اوپر آپ نے جو کہا کہ موتی وغیرہ چوری کرنے کے لیے تو چوری تو بذات خود ایک گناہ ہے لہٰذا اس سے بچنا چاہیے۔
واللہ اعلم باالصواب

متعلقہ سوالات

+2 ووٹس
1 جواب 116 مناظر
+1 ووٹ
1 جواب 108 مناظر
+1 ووٹ
1 جواب 124 مناظر

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

اردو جواب کی طرف سے تمام اہلِ اسلام کو رمضان کی بابرکت گھڑیاں مبارک ہوں!

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

764 سوالات

854 جوابات

429 تبصرے

404 صارفین

...