اردو جواب پر خوش آمدید

0 ووٹس
811 مناظر
نے اردو زبان میں

1 جوابات

0 ووٹس
(7.6ہزار پوائنٹس) نے

قافیہ:

قافیہ لفظ قفو سے ہے ،جس کے معنی پیروی کرنے اور پیچھے آنے والے کے ہیں۔اردو ادب میں قافیہ ایسے الفاظ کو کہا جاتا ہے جو اشعار میں الفاظ کے ساتھ غیر مسلسل طورپر آخر میں بار بار آتے ہیں۔یہ الفاظ بعض اوقات غیر ضروری معلوم ہوتے ہیں مگر ہٹا دیئے جانے پر خلا پیدا کر جاتے ہیں۔اس لیے ترنم اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے قافیہ کا استعمال لازم و ملزوم تصور کیا جاتا ہے۔قوافی کو عرفِ عام میں ہم قافیہ الفاظ کہا جاتا ہے،اس کی ایک مثال درج ذیل ہے:۔

؎ ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

یہاں ”حباب“ اور ”سراب“ قافیہ ہیں۔

ردیف:

ردیف کےمعنی گھڑ سوار کے پیچھے بیٹھنے والے کے ہیں۔ شعری اصطلاح میں ردیف سے مراد قافیہ کے بعد آنے والے وہ الفاظ ہیں جو بار بار آتے ہوں۔ اور یکساں بھی ہوں، مگر ردیف ہر مصرعے میں آئے، یہ بھی لازم نہیں ہوتا۔ یہ بعض وقت غزل کے مصرعہِ ثانی میں تکرار سے بھی آتا ہے۔اس کی ایک اور تعریف یوں بھی کی جاتی ہے کہ قافیہ کے بعد جو الفاظ مسلسل تکرار سے آئیں، ردیف کہلاتےہیں۔ اوپر والی مثال دوبارہ دیکھیں:۔

؎ ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

یہاں ”کی سی ہے“ ردیف ہے۔

 

متعلقہ سوالات

0 ووٹس
1 جواب 746 مناظر
مومنہ نذر نے پوچھا اردو زبان میں 4 جنوری
0 ووٹس
1 جواب 233 مناظر
گمنام نے پوچھا اردوجواب میں 20 مارچ
+1 ووٹ
1 جواب 478 مناظر

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

680 سوالات

800 جوابات

412 تبصرے

738 صارفین

...