اردو جواب پر خوش آمدید

0 ووٹس
25 مناظر
نے اسلام میں
الله نے قرآن پاک میں مرد کو عورت پر ایک درجہ فضیلت دی ہے، کیا اس سے مراد سارے مرد ہیں یا صرف شوہر، اور اگر سارے مرد ہیں تو کیا ماں کا حسن سلوک والی حدیث سے باپ سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا ،اور اسی طرح  کیا ماں بیٹے سے افضل نہیں؟  
براہ کرم رہنمائی فرمائیں، ممون ہوںگا

1 جوابات

0 ووٹس
(7.1ہزار پوائنٹس) نے
السلام علیکم،
عام طور پر مرد کو عورت پر فضیلت والی بات میں دلیل وراثت کی تقسیم کے قانون سے لی جاتی ہے کہ عورت کو مرد کے مقابلے میں کم حصہ ملتا ہے۔   اگر آپ اس معاملے کو گہرائی میں جا کر پرکھیں تو محسوس ہو گا کہ عورت کا حصہ آدھا ہونے کے باوجود مرد سے زیادہ ہے اور مرد کا حصہ دگنا ہونے کے باوجود عورت سے کم ہے ۔ سورہ النساء کی آیت نمبر 33 کو پڑھنے سے بات واضح ہو جاتی ہے ۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ حقوق و فرائض کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے ۔مثلاً اگر میں دو میں سے ایک شخص کو سو روپے دوں اور دوسرے کو پچاس روپے دوں ۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ میں نے دوسرے کو آدھا دے کر اس کا حق مارا ۔ لیکن اگر میں سو روپے والے شخص کو پابند کر دوں کہ پچاس روپے والے شخص کی پوری زندگی کا تمام خرچہ تم نے اٹھانا ہے تو اب زیادتی کس کے ساتھ ہو گی ؟
سوچیئے ؟ پچاس روپے والے شخص کے پاس پچاس روپے باقی رہیں گے کہ اس کا کوئی خرچہ نہیں ہے ۔ اس کا اپنا خرچہ بھی دوسرا اٹھا رہا ہے اور سو روپے والا شخص کچھ ہی عرصے میں سارے پیسے خرچ کر بیٹھے گا مگر فرض ساقط پھر بھی نہیں ہو گا ۔ پھر وہ اپنی کمائی بھی اسی پہ خرچ کرے گا ۔
یہی معاملہ اسلام میں عورت اور مرد کا ہے ۔ اللہ نے عورت کو معاش کی فکر سے آزاد رکھا ہے ۔ایک عورت جب پیدا ہوتی ہے تو مکمل طور پر باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ باپ اس کے کھانے پینے کپڑوں اور رہائش کے بندوبست کا پابند ہوتا ہے ۔ باپ مر جائے تو وہ شادی ہونے تک بھائی یا کسی اور قریبی محرم کی ذمہ داری ہے ۔ شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کی ذمہ داری ہے ۔ شوہر مر جائے تو بیٹوں کی ذمہ داری یا اگلے شوہر کی ۔یعنی عورت کے پیدا ہونے سے مرنے تک اس پر نہ تو کمانا فرض ہے نہ کسی کی کفالت کرنا ۔اس سے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جو رقم اسے باپ کی جائداد میں سے ورثے میں مل رہی ہے اسے وہ گھر کا خرچہ چلانے میں صرف کر دے ۔ ہاں اگر اپنی مرضی سے کرنا چاہے تو پابندی نہیں ۔ اس کا مال ہے جس طرح چاہے خرچ کرے ۔
مگر مرد کا معاملہ اس سے قطعاً مختلف ہے ۔اس پر معاش کی تنگی ڈالی گئی ہے ۔ اس کے سکون کا زمانہ صرف اس کی معصومیت کا زمانہ ہے ۔ جیسے ہی بالغ ہو گا اسے اپنے باپ کے ساتھ مل کر معاشی جدوجہد شروع کر دینی ہے ۔ اپنے ماں باپ کا سہارا بننا ہے ۔ اپنی بہنوں کی کفالت کرنی ہے ۔ پھر شادی کے بعد تاحیات اپنی بیوی اور بچوں کا ہر قسم کا خرچہ اٹھانا ہے ۔ وہ اس سے نہ بھاگ سکتا ہے نہ انکار کر سکتا ہے ورنہ گناہ گار ہو گا ۔یقیناٌ یہ سب ذمے داریاں وراثت سے حاصل کردہ رقم سے پوری نہیں کی جا سکتیں ۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم عورت کے وراثتی حقوق اسلامی معاشرے سے دیکھتے ہیں اور عورت کے فرائض اہلِ مغرب سے اٹھا لاتے ہیں ۔ یقیناً مغرب میں عورت مرد کے ساتھ ہر معاملے میں پچاس فیصد کی شریک ہوتی ہے ۔ اس کا حق ہے کہ باپ کی جائداد میں سے اسے پچاس فیصد حصہ ملے مگر اس کا فرض بھی ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر گھر کا آدھا بوجھ بھی اٹھائے ۔ اگر گھر کا کرایہ ہزار ڈالر ہے تو اس میں سے پانچ سو ڈالر عورت بھی ادا کرے گی ورنہ وہ شوہر کے ساتھ زیادتی کی مرتکب ہو گی ۔ شوہر کو حق حاصل ہو گا کہ اسے اپنے گھر سے نکال دے ۔ گھر کے باقی ماندہ اخراجات جن میں کھانا پینا کپڑے بچوں کے اخراجات ہر قسم کے ۔ غرض جو بھی گھر کے اخراجات ہوں گے اس میں بیوی اپنا پچاس فیصد حصہ ڈالے گی ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ اتنا پیسہ لائے گی کہاں سے ؟ باپ کی جائداد میں سے کتنا حصہ مل گیا ہو گا ؟ جہاں سے مرضی لائے ۔ جاب کرے ۔ سڑکیں کھودے ۔ لوگوں کا مال ڈھوئے ۔ یہ مرد کا مسئلہ نہیں ہے ۔اسلام عورت کو ایسی مشقت بھری زندگی نہیں دیتا ۔ اللہ نے عورت کو فطرتاً کمزور بنایا ہے اور مرد کو طاقتور ۔ اسی فرق کی بناء پر فرائض لاگو کیئے ہیں اور اسی فرق کی بناء پر حقوق بھی دیئے ہیں ۔

بشکریہ  الحاد ڈاٹ کام

متعلقہ سوالات

0 ووٹس
2 جوابات 3.1ہزار مناظر
0 ووٹس
1 جواب 14 مناظر
+1 ووٹ
1 جواب 58 مناظر

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

647 سوالات

784 جوابات

409 تبصرے

401 صارفین

...