اردو جواب پر خوش آمدید

+1 ووٹ
35 مناظر
نے اسلام میں
کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ الله نے شوہر کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اپنی بیمار اور بوڑھی بیوی کو رات کے وقت  گھر میں چھوڑ کر تبلیغی اجتماع میں جائے جبکہ وہ گھر میں اکیلی ہو،
 اور اگر غلط ہے تو کیا اس طرح کا عقیدہ رکھنے والا گناہ گار ہوگا،

1 جوابات

0 ووٹس
(7.1ہزار پوائنٹس) نے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ،
محترم آپ کا سوال ہے کہ بیمار بیوی کو چھوڑ کر تبلیغ کے لیے جانا کیسا ہے؟
اس کے جواب سے پہلے دورِ نبویﷺ کا ایک واقعہ گوش گزار کرتا ہوں۔

عہد نبوی میں جو غزوات ہوئے۔ ان میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شرکت کی۔ سوائے غزوہ بدر کے، کہ اس میں آپ اپنی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تیمارداری اور عیادت کے لئے مدینہ منورہ میں آپ کو چھوڑ دیا۔ حضرت عثمان کے ساتھ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”تم دونوں کو شرکت جہاد کا اجر اور مال غنیمت میں حصہ ملے گا۔ جیسا ان لوگوں کو ملے گا جو اس جنگ میں شرکت کر رہے ہیں۔“

اس سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیوی کی بیماری کے باعث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر میں شریک ہونے سے روک دیا کہ جس وقت سب سے زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے تو کیسے یہ اچھا عمل ہوسکتا ہے کہ بیوی کو بیماری کی حالت میں چھوڑ کر دور دراز تبلیغ کے لیے نکلا جائے جبکہ پیچھے کوئی خیال رکھنے والا بھی نہ ہو۔ اگر بالفرض خیال رکھنے والا ہو تب بھی جس طرح ایک شوہر اپنی بیوی کا خیال رکھ سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں رکھ سکتا۔
اس لیے بیوی یا والدین یا کوئی بھی دیگر فرد جو بیمار ہو اور اس کا خیال رکھنے والا بھی نہ ہو تو اسے چھوڑ کر تبلیغ کے لیے جانا کسی بھی طرح ایک اچھا عمل نہیں بن سکتا۔ بلکہ فرمان ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔
باقی رہا معاملہ تبلیغ کا تو تبلیغ کے لیے دور دراز علاقے میں جانا ضروری نہیں نہ ہی ایسی کوئی شرط ہے۔ آپ اپنے علاقے میں ہی تبلیغ کریں اور سب سے بہتر ہے کہ اپنے جاننے والوں کو اسلامی احکامات پر عمل کی جانب راغب کریں جو کہ گھر پر رہتے ہوئے بھی با آسانی کرسکتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم
والسلام

متعلقہ سوالات

+1 ووٹ
2 جوابات 1.8ہزار مناظر
+1 ووٹ
1 جواب 98 مناظر
0 ووٹس
1 جواب 14 مناظر

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

653 سوالات

784 جوابات

409 تبصرے

401 صارفین

...