اردو جواب پر خوش آمدید

+2 ووٹس
201 مناظر
نے اسلام میں
قرآن میں سورج کا کیچڑ کی ندی میں غروب ہونے کا کیوں کہا گیا ہے؟
(12.0ہزار پوائنٹس) نے
السلام علیکم!
براہ کرم اپنے تمام سوالات اردو میں کیجئے۔ یہ سائٹ صرف اردو سوالات و جوابات کے لیے ہے۔  اگر اردو لکھنے میں دشواری ہے تو اس کے متعلق بھی پوچھ سکتے ہیں۔

1 جوابات

+1 ووٹ
(12.0ہزار پوائنٹس) نے
السلام علیکم!
آپ کا سوال سورۃ کہف، پارہ 18، آیت نمبر 86 کے حوالے سے ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
حَتّٰٓى اِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ الشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِىۡ عَيۡنٍ حَمِئَةٍ  وَّوَجَدَ عِنۡدَهَا قَوۡمًا ؕ
ترجمہ: یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔

یہاں عربی میں لفظ ”وَجَدَ“ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ ذوالقرنین کو ایسا محسوس ہوا یا ایسا لگا یا ایسا دکھائی دیا جیسے کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ذوالقرنین کو کیا محسوس ہوا۔
مثال کے طور پر اگر میں کہوں کہ میری کلاس کے ایک طالب علم نے سوال حل کیا کہ 2+2 برابر ہوتے ہیں 5 کے۔ اور آپ سمجھیں کہ میں ایسا کہہ رہا ہوں کہ 2+2=4 ہے ۔ نہیں بلکہ میں اس طالب علم کی حالت کو بیان کررہا ہوں۔

مزید یہ کہ عربی کا لفظ ”مغرب“ ”وقت“ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے  اور یہی لفظ ”جگہ“ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ اوپر ترجمہ میں بھی ہے کہ جب وہ سورج غروب ہونے کی جگہ پہنچا اگر اسے وقت کے معنی میں دیکھا جائے تو یہ ہوگا کہ سورج غروب ہونے کے وقت پہنچا تو اسے محسوس ہوا کہ سورج ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے۔

اب ایک اور طرح سے دیکھیں کہ جدید سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ سورج نہ طلوع ہوتا ہے نہ غروب ہوتا ہے بلکہ جب زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے تو زمین کا ایک حصہ سورج کے سامنے آجاتا ہے جبکہ دوسرے مخالف سمت میں چلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر جگہ، ہر نیوزپیپر، ہر Journal میں یہی لکھا ہوتا ہے کہ طلوع آفتاب کا وقت، غروب آفتاب کا وقت۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سورج نکلتا اور ڈوبتا ہے بلکہ یہ سورج دکھائی دینے اور آنکھ سے اوجھل ہونے وقت ہے۔

لہٰذا اوپر سورۃ کہف کی آیت میں اللہ بنی نوع انسان کو ہماری زبان میں اور ہماری فہم کے مطابق بتاتا ہے کہ ذوالقرنین سورج کے غروب ہونے یعنی آنکھ سے اوجھل ہونے کے وقت جس جگہ پہنچا اسے وہاں ایک قوم دکھائی دی یعنی لوگ دیکھے۔

لہٰذا یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن میں سورج کا مغرب (سمت/جگہ) میں غروب ہونا بیان نہیں کیا گیا اور نہ ہی کیچڑ کی ندی میں غروب ہونا بیان کیا گیا ہے۔ بلکہ ذوالقرنین کو محسوس ہونے والی چیز کا ذکر کیا گیا ہے اور اس جگہ کا ذکر کیا گیا ہے جہاں وہ پہنچا اور جہاں اسے ایک قوم (لوگ) دکھائی دیئے۔

مزید تفصیل کے لیے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ویڈیو کا لنک پیش خدمت ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=n8R2rVgD2ok

متعلقہ سوالات

+2 ووٹس
1 جواب 155 مناظر
صادقہ خاتون نے پوچھا اسلام میں 12 مارچ, 2021
+1 ووٹ
1 جواب 132 مناظر

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

775 سوالات

854 جوابات

429 تبصرے

398 صارفین

...