السلام علیکم
جہاں تک میری معلومات ہیں قانونی طور پر جب کوئی بھی چیز، جائیداد، گاڑی وغیرہ کسی کے نام کردی جائے تو وہ اس کی ملکیت ہوجاتی ہے۔ پھر اس موجودہ مالک کی اجازت کے بغیر کوئی بھی اسے حاصل نہیں کرسکتا۔ اسی لیے جب اس عورت نے اپنی زمین رضامندی سے بھتیجوں کے نام منتقل کردی تو اب اس کے مالک بھتیجے ہیں ناکہ وہ عورت۔ اب وہ عورت اس پر کسی قسم کا دعویٰ ملکیتی نہیں کرسکتی اور نا ہی قانونی طریقے سے حاصل کرسکتی ہے۔ ماسوائے کہ بھتیجے خود اپنی رضامندی سے زمین واپس اس کے نام منتقل کردیں۔
ہاں البتہ ایک اور صورت ہو سکتی ہے وہ یہ کہ زمین منتقل کرواتے وقت کوئی خاص شرط/شرائط رکھی گئی ہوں اور بھتیجوں کی طرف سے وہ پوری نہ کی گئی ہوں تو اس صورت میں قانونی طریقہ سے زمین واپس ہوسکتی ہے۔
شریعت اسلام میں بھی اگر کوئی چیز کسی دوسرے شخص کو تحفہ / ہدیہ کے طور پر دے دی جائے یا ہبہ کردی جائے تو واپسی کا تقاضا نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ ایک حدیث رسول ﷺ ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد يعني ابن زريع، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن طاوس، عن ابن عمر، وابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" لا يحل لرجل ان يعطي عطية او يهب هبة فيرجع فيها، إلا الوالد فيما يعطي ولده، ومثل الذي يعطي العطية، ثم يرجع فيها كمثل الكلب ياكل فإذا شبع قاء ثم عاد في قيئه".
ترجمہ: عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے ۱؎، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر (یا ہبہ کر کے) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے“۔ (حدیث نمبر: 3539۔ سنن ابی داؤد)
وضاحت: ۱؎: چونکہ باپ اور بیٹے کا مال ایک ہی ہے اور اس میں دونوں حقدار ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دے اس لئے واپس لینے میں کوئی قباحت نہیں۔
ہاں البتہ ہبہ کرتے وقت اس بات کی خاص تاکید کی گئی ہے کہ وارثان کو مال سے محروم نہ کیا جائے بلکہ صرف ایک جائز حد تک ہی ہبہ کیا جائے۔ یعنی تمام کی تمام جائیداد کسی ایک شخص کے نام نہ کردی جائے بلکہ وارثان کے لیے بھی باقی چھوڑی جائے۔