اردو جواب پر خوش آمدید

0 ووٹس
202 مناظر
نے اسلام میں

1 جوابات

0 ووٹس
(6.0ہزار پوائنٹس) نے
سب سے پہلے ایک بات سمجھ لیجئے ۔ جیسا کہ سوال میں کہا گیا ہے کہ بیوہ بے اولاد بہو کا حصہ کیا ہوگا۔ تو بیوہ بہو اگر بے اولاد نہ بھی ہو تب بھی سوال کی حیثیت بالکل ایک جیسی رہتی ہے۔

شریعت نے وراثت میں حقداران ہونے کے لیے وارث کے زندہ ہونے کی شرط رکھی ہے۔ یعنی مذکورہ سوال میں فوت ہونے والے شخص کا بیٹا اس کی زندگی میں ہی فوت ہوگیا ہے تو اس صورت میں وہ بیٹا یا اس کی بیوی یا اس کے بچے اس وراثت کے حقدار نہ ہوں گے۔ کیونکہ بیوی کا تعلق شوہر کی وراثت سے ہوتا ہے سسر کی وراثت سے نہیں۔ اسی طرح بچوں کا تعلق باپ کی وارثت سے ہوتا ہے لیکن دادا کی وراثت کے حقدار نہیں ہوتے۔  بلکہ اس کے زندہ بیٹے، بیٹیاں ، بیوی اور والدین وراثت کے حقدار ہوں گے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ’’ہر ایک کے لیے ہم نے اس ترکے کے وارث بنائے ہیں جسے والدین اور قریب تر رشتہ دار چھوڑ جائیں۔‘‘ النساء 33:4
اس آیتِ کریمہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم ہو گا، لہٰذا بیٹے کی موجودگی میں پوتا وراثت سے حصہ نہیں پائے گا۔

البتہ دادا اپنے یتیم پوتوں کا خیال کرتے ہوئے فوت ہونے سے پہلے اپنی وراثت سے ان کے لیے وصیت کرسکتا ہے جو کہ اس کے لیے باعث اجر بھی ہوگا۔

لیکن ایک بات ذہن میں رکھیں کہ پاکستان کے موجودہ قانون کے مطابق پوتے اپنے دادا کی وراثت میں حقدار ہوں گے۔ :)

متعلقہ سوالات

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

621 سوالات

758 جوابات

408 تبصرے

308 صارفین

...