اردو جواب پر خوش آمدید

0 ووٹس
229 مناظر
نے اردوجواب میں
مروجہ قرآنی تراجم کی پیدا کردہ الجھنوں کا حل

1 جوابات

0 ووٹس
نے
آپ نے دیکھا کہ ہمارے ہاں قرآن کی اصطلاحات کا جو مروّجہ مفہوم لیا جاتا ہے اُس کی رو سے خود ہی کس قدر اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔ ان اعتراضات کی بنا پر پھر بے چینیاں پیدا ہوتی ہیں حالانکہ کتاب وہ تھی جس کا پہلے دعویٰ یہ تھا کہ لَا رَیْبَ فِیْہِ (2:2)۔ یہ معاذاللہ قرآن کا نقص نہیں ہے بلکہ الفاظِ قرآن کو جو معانی ہم نے خود پہنائے ہوئے ہیں یہ ان کا نقص ہے۔‘‘متقین’’ قرآن کی بڑی جامع اصطلاح ہے۔ اس لفظ کا مادہ ‘‘و ق ی’’ ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے یوں سمجھیے جو اربابِ لغت نے بھی سمجھایا ہے اور عربوں کے ہاں سمجھ دار لوگوں نے بھی ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ عربوں کا لباس بڑا ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے۔ کوئی ایک راستہ چل رہا ہو اور وہاں خار دار جھاڑیاں ہوں‘ اس میں اِدھر اُدھر سب کانٹے دار جھاڑیاں ہوں اور ڈھیلا ڈھالا لباس ہو۔ اُن سے پوچھا گیا کہ بتاؤ تم اس وقت کیسے چلتے ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ہاں صاحب! ہم کہیں اِدھر سے بچتے ہیں کہ یہ کانٹا ہمارے کپڑے میں نہ الجھ جائے‘ اور کہیں اُدھر سے بچتے ہیں کہ وہ دامن کو نہ الجھا دے۔ اس طرح سے ہم بچتے بچاتے ہوئے اُن کانٹوں سے صحیح طور پہ نکل جاتے ہیں۔ کہا ہے کہ اسے متقی کہتے ہیں یعنی وہ جو راستے کی خطرناک گھاٹیوں سے بچ کر چلنا چاہے۔ چلنے والے اب دو قسم کے ہوگئے۔ مگر بات یوں سمجھ میں نہیں آتی۔ یوں کہو کہ ایک شخص نے دریا عبور کرنا ہے وہ دریا میں چھلانگ لگانے لگا ہے۔ آپ اُسے کہتے ہیں کہ یہاں نہ کودنا‘ یہاں پانی بڑا گہرا ہے‘ یہاں نہ جانا‘ اس کے نیچے مگرمچھ ہے‘ ٹھیک ہے وہ اس سے احتیاط برتے گا‘ اس سے سبق حاصل کرے گا کہ اُسے بتا دیا ہے کہ یہاں خطرہ ہے۔ اور جو شخص ڈوب کر مرنے کے لیے دریا میں کود رہا ہو‘ اُسے کہا جائے کہ یہاں نہ کودنا‘ پانی گہرا ہے وہ تو کودے گا ہی وہیں۔ جو خود ڈوب کر مرنے والا ہو‘ جو فیصلہ کرچکا ہو کہ میں نے خود کشی کرنی ہے‘ اُس سے یہ کہنا کہ یہ پڑیا نہ کھانا‘ سنکھیا ہے۔ اس کے لیے کسی صحیح راہنمائی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ راہنمائی کا سوال یا ہدایت کا سوال یا غلط اور صحیح میں امتیاز کا سوال اس کے لیے ہوگا جو غلط سے بچنا چاہتا ہو‘ جو خطرات سے محفوظ رہنا چاہتا ہو‘ جو زندہ رہنا چاہتا ہو‘ جو ہلاکت کی چیز کے قریب نہ جانا چاہتا ہو۔ جن کے اندر یہ کیفیت ہو کہ وہ زندگی میں راستے کی خطرناک گھاٹیوں سے بچ کر چلنا چاہتے ہیں‘ محفوظ طریق پر چلنا چاہتے ہیں‘ اُن کو متقی کہیں گے۔ یہ اندازِ سفر ہوگا کہ راستے میں کسی خار دار جھاڑی سے میرا دامن نہ الجھ جائے‘ میں راستے میں کسی گڑھے میں نہ گرجاؤں‘ کوئی ایسا راستہ نہ اختیار کرلوں جس میں اِدھر اُدھر کمیں گاہوں کے اندر ڈاکو چھپے ہوئے ہوں‘ درندے ہوں‘ سانپ ہوں۔ اگر ہوں تو میں ان سے بچ کر کیسے جاؤں؟ کہا ہے کہ جو راہرو اس انداز سے سفر اختیار کرنے کے لیے نکلے گا اُس کے لیے یہ صحیح راہنمائی دے گا‘ بتائے گا کہ جس راستے پہ چلے ہو‘ اس پہ نہ چلنا‘ یہ خطرناک ہے‘ یہ محفوظ راستہ ہے اور جو زندگی کے محفوظ راستے پر چلنا چاہے یہ اس کے لیے صحیح راہنمائی دیتا ہے۔

متعلقہ سوالات

+1 ووٹ
1 جواب 150 مناظر
صادقہ خاتون نے پوچھا اسلام میں 12 مارچ, 2021
0 ووٹس
0 جوابات 5.4ہزار مناظر
گمنام نے پوچھا اسلام میں 4 دسمبر, 2023

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

731 سوالات

790 جوابات

411 تبصرے

360 صارفین

...