اردو جواب پر خوش آمدید

اردو جواب کی طرف سے تمام اہلِ اسلام کو رمضان کی بابرکت گھڑیاں مبارک ہوں!

0 ووٹس
737 مناظر
نے قانونی مسائل میں
نے دوبارہ ظاہر کیا گیا
میں ایک بیوہ ہوں اور میرے دو بچے ہیں جو ابھی میرے ہی زیر کفالت ہیں میرے خاوند کا انتقال میرے ساس سے پہلے ہوا کیا میں یا میرے بچے ان کی وراثت کے حق دار ہیں اگر ہیں تو کتنا حصہ بنتا ہے
(12.3ہزار پوائنٹس) نے
مشکل سوال ہے

1 جوابات

0 ووٹس
(11.8ہزار پوائنٹس) نے
ایسے سوال عام طور پر مشکل لگتے ہیں لیکن اگر ہم اسلام کے قانون وراثت کا مطالعہ کریں تو یہ ذرا بھی مشکل نہیں ہوتے۔

اردو جواب پر اسی طرح کا ایک اور سوال بھی پوچھا گیا تھا جو کہ دادا اور بیوہ بہو کے متعلق تھا۔ یہاں بھی وہی صورتحال ہے۔  ملاحظہ ہوں۔

شریعت نے وراثت میں حقداران ہونے کے لیے وارث کے زندہ ہونے کی شرط رکھی ہے۔ یعنی مذکورہ سوال میں فوت ہونے والی عورت کا بیٹا اس کی زندگی میں ہی فوت ہوگیا ہے تو اس صورت میں وہ بیٹا یا اس کی بیوی یا اس کے بچے اس وراثت کے حقدار نہ ہوں گے۔ کیونکہ بیوی کا تعلق شوہر کی وراثت سے ہوتا ہے ساس کی وراثت سے نہیں۔ اسی طرح بچوں کا تعلق باپ کی وارثت سے ہوتا ہے لیکن دادی کی وراثت کے حقدار نہیں ہوتے۔  بلکہ دادی کے زندہ بیٹے، بیٹیاں ، شوہر اور والدین وراثت کے حقدار ہوں گے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ’’ہر ایک کے لیے ہم نے اس ترکے کے وارث بنائے ہیں جسے والدین اور قریب تر رشتہ دار چھوڑ جائیں۔‘‘ النساء 33:4
اس آیتِ کریمہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم ہو گا، لہٰذا زندہ وارثان کی موجودگی میں پوتا وراثت سے حصہ نہیں پائے گا۔

البتہ دادی اپنے یتیم پوتوں کا خیال کرتے ہوئے فوت ہونے سے پہلے اپنی وراثت سے ان کے لیے وصیت کرسکتی ہے جو کہ اس کے لیے باعث اجر بھی ہوگا۔

لیکن ایک بات ذہن میں رکھیں کہ پاکستان کے موجودہ قانون کے مطابق پوتے اپنے دادا یا دادی کی وراثت میں حقدار ہوں گے۔

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

اردو جواب کی طرف سے تمام اہلِ اسلام کو رمضان کی بابرکت گھڑیاں مبارک ہوں!

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

764 سوالات

854 جوابات

429 تبصرے

400 صارفین

...